UBER KA LICENCE MUATTAL ،اوبر کا لائنسس معطل حفاظتی اقدامات ناکافی

0
71

UBER KA LICENCE MUATAL ،اوبر کا لائنسس معطل حفاظتی اقدامات ناکافی

تفصیلات کے مطابق یہ ٹیکسی ایپ لائنسس(licence )ہولڈر کے طور پرحفاظتی  اقدامات کے معاملے میں ناقابل اعتماد ثابت ہورہی ہے  باوجود اس کے کہ اس ایپ میں کافی تبدیلیاں بھی کی گئیں ۔

ابتدائی طور پر  لندن میں 2012 میں اوبر کا لائنسس معطل کر دیا گیا تھا مگر 2 بار اس کی معطلی مئوخر کر دی گئی ۔اب ایک بار پھر لائنسس کی معطلی 25 نومبر 2019 کو ہو چکی ہے البتہ پھر یہ فرم  اب اس اقدام کے خلاف اپیل کر کے ہی اپنا کام جاری رکھ سکے گی۔

اوبر(uber) کے ڈرائیورز کا مستقبل

لندن بین الاقوامی طور پر اوبر کی بڑی پانچ مارکیٹ میں سے ہے اور تقریباََ اس شہر میں اس کے 45000 ڈرائیور ہیں جبکہ مجموعی طور پر پرائیوٹ کار اور کرائے کی گاڑیوں کے لائنسس ہولڈرز  126000 ہیں ۔

اب اس فرم کی اپیل ناکام ہوگئی تو اوبر کے ڈرائیور دوسرے روزگار کے ذرائع ڈھونڈے گے کچھ سوچتے ہیں اوبر ڈرائیورز دوسری بڑی فرمز جیساکہ بولٹ اور کیپ ٹن وغیرہ کی طرف جاسکتے ہیں ۔

اوبر کا لا ئنسس(licence) خطرے میں پڑنے کی وجوہات :۔

ٹرانسپورٹ فار لنڈن Tfc نے اس ایپ کی ناکامی کی وجہ  مسافروں کی حفاظت میں ناکامی ہے اور مزید یہ کہ اوبر سسٹم میں غیر مصدقہ ڈرائیورز اپنی تصاویر اوبر کے لائنسس ہولڈرز کے اکائونٹ میں اپلوڈ کر دیتے ہیں ایک اندازے کے مطابق اس قسم کے14000 فراڈ کے  ٹرپس 2018 کے اخیر اور 2019 کے اوائل میں دیکھنے کو ملے ۔اور ایسے ڈرائیوز بھی کمپنی سے منسلک تھے جن کو انکی غیرذمہ داری یا شکایات کی وجہ سے نکالا جا چکا تھا

مثال کے طور ایک ڈرائیور کو بچوں کی نازیبا تصاویر پھیلانے کی وجہ سے معطل کر دیا گیا تھا لیکن وہ بھی اوبر سے منسلک تھا اور کمپنی کے لیے کام کر رہا تھا

اوبر کے متعلق لندن کے لوگوں کی رائے

ڈائریکٹر آف لائنسسنگ  ایٹ ٹی ایف ایل نے کہا ۔ اگرچہ  اوبر کے سسٹم میں بہتری کے لئے اقدامات کیے گئےہیں ۔ لیکن یہ ہر گز قابل قبول نہیں کہ مسافروں کو چھوٹی گاڑیوں میں ناتجربہ کار اور ناقابل اعتبار ڈرائیورز کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھنا پڑے ۔

لندن کے میئر صادق خان نے کہا کہ یہ فیصلہ اوبر صارفین کے لیے خوش کن نہیں ہو گا لیکن انکی حفاظت ہی پہلی ترجیح ہے ۔قاعدے قانون لندں کے باسیوں کی سیکیورٹی کے لیے محفوظ ہیں

اس بارے میں اوبر فرم کی رائے

اوبر کے ترجمان کے مطابق  یہ فیصلہ ’’ انتہائی غیر معمولی اور غلط ہے ‘

ترجمان کے مطابق اوبر پچھلے دو مہینے میں اپنے تمام ڈرائیورز کا  آڈٹ کر چکا ہے

اوبر کے باس  دارا کھوسرو واشی نے  اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ہم اس اعلی معیار تک گئے ہیں جہاں تک ہم پہنچ سکتے ہیں لیکن ٹی ایف ایل کا یہ فیصلہ بالکل غلط ہے پچھلے دو سال میں اپنا طریقہ کار مکمل طور پر بدل دیا ہے

https://twitter.com/dkhos/status/1198929262826311681?s=20

دیگر ممالک میں اوبر پر پابندی

اوبر کو دنیا بھر میں سیکورٹی خدشات کی وجہ سے تنقید کا سامنا کر پڑ رہا ہے جیساکہ 2017 میں ڈنمارک سے بوجوہ نئے ٹیکسی قوانین کے خاتمہ ہو گیا ،بلگیریا اور ہنگری میں سیکورٹی خدشات کی وجہ سے پہلے ہی اوبر بین ہو چکی ہے اس کے علاوہ ترکی میں بھی اوبر کو اس معاملہ میں پریشر کا سامناہے

نیب کا شریف خاندان کے مختلف کاروبارمنجمد کرنے کا حکم

https://www.7knows.com/article/1205/sharief-family-karobar-nunjmid-nab/

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں