wukala gardi arooj par وکلاء گردی عروج پر ہسبتال سے مفت ادویات نہ ملنے پر آپے سے باہر

0
184

wukala gardi arooj par    وکلا گردی عروج پر

wukala gardi arooj par لاہور میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر وکلاء گروہ کی شکل میں داخل ہوئے

اور حملہ کر دیا۔ جسکی وجہ سے ڈاکٹرز اور وکلاء میں تصادم ہوا جس کے نتیجہ

میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے  ۔

وکلاء کی طرف سے مفت ادویات کا مطالبہ اور مذاکرت

• چند دن پہلے وکلاء نے اس ہسبتال میں علاج کروایا تھا  اور اس سلسلہ میں ادویات کی مفت فراہمی کا مطالبہ کیا

جو کہ ہسبتال انتظامیہ کی طرف سے پورا نہ کیا گیا ۔جسکی وجہ سے ہسبتال انتظامیہ اور وکلاء میں لڑائی ہوگئی

جس کی وکلاء کے خلاف انتظامیہ نے ایف آئی آر بھی کٹوائی ۔

• انتظامیہ اور وکلاء کے درمیان مذکرات بھی ہوئے لیکن اس کے باوجود وکلاء گروہ کی شکل

میں ہسبتال پر حملہ آور ہوگئے دونوں ایک دوسرے پر حملہ کرنے میں پہل کرنے کا الزام لگا رہے ہیں ۔

وکلاء گردی ویڈیو کے لئے نیچے لنک پر کلک کرین

https://www.youtube.com/watch?v=MFfPj553w4g

وکلاء کی توڑ پھوڑ

• مشتعل وکلاء پنجاب انٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے آپریشن تھیٹر اور آئی سی یو میں داخل ہوگئے،

توڑ پھوڑ شروع کر دی جس کی وجہ سے ڈاکٹرز اور انتظامیہ کو جان بچانے کے لیے ہسبتال سے بھاگنا پڑا ۔

• اس واقعہ کے دوران وکلاء اور ہسبتال انتظامیہ کے تصادم بھی دیکھنے کو ملا ،

پولیس کی گاڑی کو وکلاء نے آگ لگا دی اس کے پی آئی سی کے آحاطہ میں کھڑی گاڑیوں بھی نقصان پہنچایا ۔

• حالات ذیادہ خراب ہونے کی پر پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی اور لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا ۔

مریضوں کی ہلاکت

• مریضوں کے علاج میں اس ہنگامہ آرائی کی وجہ سے رکاوٹ پیدا ہو گئی جس کی وجہ سے طبی امداد نہ ملنے

کی وجہ سے ہسبتال میں پہلے سے موجود 6 مریض جاں بحق ہوگئے ۔

وکلاء گردی عروج پرخاتون پرتشدد  تفصیل کے لیئے نیچے لنک پر کلک کریں

https://www.7knows.com/article/886/lawyer-granted-bail-to-female-torture-lawyer-at-the-height-of/

• اس واقعہ کا جائزہ لینے کے لیے جب فیاض الحسن چوہان صوبائی وزیر اطلاعات ہسبتال کے باہر پہنچے

• تو وہ بھی وکلاء گردی کا نشانہ بن گئے جس کی وجہ سے فیاض الحسن چوہان کو بھاگ کر اپنی جان بچانی پڑی ۔

• وزیر اعلی پنجاب کی طرف سے اس واقعہ کا سخت نوٹس لیا گیا ہے ۔ واقعہ کی رپورٹ ؑکرنے کے ساتھ ساتھ تحقیقات

کا بھی حکم دے دیا ہے ۔اس واقعہ کے ضمن میں کہا کہ کوئی قانون سے بالا تر نہیں ہے ،

مریضوں کے علاج میں رکاوٹ بننا مجرمانہ اور غیر انسانی اقدام ہے ۔

وزیر اعظم کا نوٹس

•  اس واقعہ کا وزیر اعظم نے نوٹس لیا اور اس ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی  چیف سیکرٹری پنجاب

اور آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی ۔

•  ینگ ڈاکٹرز نے اس واقعہ کے ہونے کے بعد  کل سے اوپی ڈیز بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے

 

 

 

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں