SIYASI AWARD SHOW BILAWAL ZARDARI MEDAN MAR GAI

0
94
SIYASI AWARD SHOW BILAWAL ZARDARI MEDAN MAR GAI

SIYASI AWARD SHOW BILAWAL ZARDARI MEDAN MAR GAI

SIYASI AWARD SHOW BILAWAL ZARDARI MEDAN MAR GAI منصور علی خان یک انتہائی قابل اور تجربہ کار  اینکر ہیں۔صحافت کےکیریئر کا آغاز جیونیوز سے کیا ۔جیو نیوز سے 5 سال تک وابستہ رہے ۔ 22 اپریل 1979 میں لاہورمیں پیدا ہوئے ۔ لاہور کالج کے سٹوڈنٹ رہے ۔

ہسٹری آف پاکستان ،پولیٹیکل سائنس اور انگلش لٹریچر میں گریجویشن کی ۔

منصور علی خان نے دی نیوز انٹرنیشنل کے لئے بھی کافی بلاگ لکھے ۔

اس بار TO THE POINT   پروگرام مین منفرد ایوارڈ شو کا انعقاد کیا گیا ۔ فلم اور ڈراموں سے وابستہ افراد کے لیے بہت سے ایوارڈ شو کیے جاتے ہیں لیکن سایستدانوں کے لیے پہلے ایواڈ شو کا انعقاد کرنے کا سہرہ منصورعلی خان کو  جاتا ہے

یہ ایوارڈ شو TO THE POINT PROGRAM پروگرام میں پیش کیا گیا ۔

 انتظار ایوارڈ :

اس ایوارڈ کے حق دار  کو بلامقابلہ ہی منتخب کر لیا گیا ۔

اس ایوارڈ کے لیے ایک ایسے پروجیکٹ کا انتخاب کیا گیا جسکے مکمل ہونے کی تاریخیں   ملنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔اور اس ایوارڈ کے لیے  پشاور بی آرٹی کو منتخب کیا گیا ۔

فل سٹاپ سیاستدان کا ایوارڈ

یہ ایوارڈ شو ایسے سیاستدانوں کے لیے رکھا گیا جو سیاست سے کافی عرصہ سے دور ہیں اور مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں ۔

اس ایوارڈ کے لیے دو نامزدگیاں سامنے آئیں ۔

چوہدری نثار علی خان صاحب

میاں صاحب کو سزا ہونے کے بعد سیاست سے دور ہوگئے

تحریک انصاف کے حامد خان

بمطابق ایوارڈ انائوسمنٹ حامد خان اپنی حق گوئی کی وجہ سیاست کے میدان کے غائب ہیں،

لیکن ایوارڈ کے لے چوہدری نثار علی خان کو منتخب کیا گیا ۔


دوسروں کے کام میں ٹانگ اڑانے کا ایوارڈ :۔ا

اس ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا فیصل واڈا ،فردوس عاشق اعوان اور فیاض الحسن چوہان صاحب کو اور ایوارڈ کے حقدار ٹہرے فیاض الحسن چوہان صاحب

تحریک انصاف کے فیصل واڈا پولیس مقابلہ میں پسٹل اور بلٹ پروف جیکٹ پہنے  پوری تیاری کے ساتھ مقابلہ کے لیے پیش پیش نظر آئے ۔

ایک پریس کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں فردوس عاشق اعوان صاحبہ اور بیرسٹر فروغ نسیم شامل تھ۔ ۔ لیکن فردوس عاشق اؑعوان کچھ ذیادہ ہی ایکٹیو نظر آئیں اور بیرسٹر فروغ نسیم سے کیے گئے سوالوں کے جواب میں نہ صرف ٹوکتی رہیں بللکہ بعض ان سے پوچھے سوالوں کے جواب خود ہی دیتی رہیں جس کے بعد بیرسٹر فروغ نیم  نے سرنڈرکرتے اپنے سوال بھی ان کی طرف بھیجنا شروع کردیئے ۔

فیاض الحسن چوہان صاحب وکلاء کی طرف سے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر حملے کے دوران  بطور ثالث  اپنا کردار ادا کرنے پہنچ گئے ۔

اور اس ایوارڈ کے لیے فیض الحسن چوہان کو منتخب کیا گیا ۔

 

TO THE POINT پروگرام میں سب سے ذیادہ پذیرائی حاصل کرنے  والے بیانات کے لیے نامزدگیاں درجذیل تھیں ۔

ترجمان مسلم لیگ مریم اورنگزیب

مریم اورنگزیب نے فواد چوہدری کی اس بات پر کہ  اوبر کی ہیلی کاپٹر سروس شروع  کی ہے  مریم نے آہستگی سے طنزیہ جملہ کسا ۔

تحریک انصاف سے صداقت علی عباسی

 TO THE POINT  پروگرام میں صداقت علی عباسی نے ایک  ٹوئٹ کو جاویدچوہدری سے منسوب کیا جس پر منصور علی خان نے تصیح کی کہ جاوید چوہدری ٹوئٹڑ پر نہیں ہیں ۔

تحریک انصاف سے عظمٰی کاردار ۔

عظمی کاردار نے بھی ایک ٹویٹ سید علی گیلانی سے منسوب کردیا۔

پھر منصورعلی خان نے تصیح کروایٗ کہ سید علی گیلانی ٹوئٹر پر نہیں ۔

اوراس ایوارڈ کے لئے مریم اورنگزیب کو منتخب کیا گیا۔

سب سے ذیادہ معافیاں مانگنے کا ریکارڈ ۔

یہ ایوارڈ متنازع بیانات پر معافیاں مانگنے پر دیا گیا ۔

اور یہ ایوارڈ بلامقابلہ فیاض الحسن چوہان کو دیا گیا۔

مزاحیہ سیاسی ایوارڈ :۔ 

اس ایوارڈ کے لیے سیاستدانوں کے مزاحیہ بیانات کو حصہ بنایا گیا ۔

اس ایوارڈ کے تیں نامزدگیاں کی گئیں ۔

1 وزیر اعظم عمران خان

وزیرا عظم کے مرغیوں انڈوں اور گیسن نکلنے کے متعلق بیانات حصہ بنے

2۔ چئیر مین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری

بلاول بھٹو کا بیان بارش آتا ہےتو ۔۔۔۔ اس ایوارڈ کے لے حصہ بنے ۔

3 ۔ تحریک انصاف کے چوہدری محمد سرور

چوہدری محمد سرود کےآلو چھولے والا بیان اس ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا۔

اور اس ایوارڈ کے لیے بلاول بھٹو زرداری کو منتخب کیا گیا۔

جب بارش آتا ہے تو پانی آتا ہے ۔دلچسپ تبصرے  ویڈیوز کے ساتھ نیچے لنک پر لک کریں

https://www.7knows.com/article/1164/jab-barish-hoti-hai-to-pani-ata-ha/

SIYASI AWARD SHOW BILAWAL ZARDARI MEDAN MAR GAI

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں