کشمیر کی تاریخ کے سیاہ ترین اوراق

0
65

جب ہندوپاک کی آذادی کی تحریک عروج پر تھی اسی دوران مقبوضہ کشمیر کی قسمت کا فیصلہ لکھا جارہا تھا ۔تمام ریاستوں کو یہ حق دیاگیا  کہ وہ اپنی مرضی سے پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک سے الحاق کرلیں لیکن اس سے پہلے کہ کشمیری عوام بوجوہ مسلم اکثریت پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کرتی ہندو مہاراجہ نے مقبوضہ کشمیر کا بھارت سے الحاق کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔ یہ فیصلہ ہونا تھا کہ کشمیری عوام میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئ اور اسی کو جواز بنا کر بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں اپنی فوج داخل کر دی اور وادی کا امن وسکون تباہ کر دیا ۔ایک موقعہ پر جواہر لعل نہرو نے مقبوضہ کشمیر کا معاملہ بذریعہ اقوام متحدہ حل کر وانے کوشش کی تو امید کی ایک کرن نظر آئی ۔اس ضمن میںاقوام متحدہ نے فیصلہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر کا رائے شماری کے ذریعہ ہی پاکستان یا بھارت سے الحاق کا فیصلہ کیا جائے لیکن اس فیصلہ کو جواہر لعل نہرو نے ردی کی ٹوکری کی نظر کر دیا اور مقبوضہ کشمیر میں مظالم جاری رکھے ۔

اگست 2019 میں برسراقتدار جنتہ پارٹی نے آئین کی شق 370 ختم کر کے ظلم کی نئی تاریخ رقم کردی جسکی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کی نیم خود مختار حثیت اور خصوصی اختیارات کا بھی خاتمہ ہو گیا ۔مقبوضہ کشمیر میں اس وقت بھارتی فوج نے کرفیو نافذ کر رکھا ہے  جس کی وجہ دن بدن حانلات بگڑتے چلے جارہے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال کی وجہ سے پاکستان اوربھارت کے مابین جنگی جنون عروج پر ہے لیکن اس کے باوجود دور دور تک اس مسئلہ کا حل ہوتا دکھائ نہیں دیتا ۔اقوام عالم کی اس معاملے کی طرف عدم توجہی بہت بڑے نقصان کا باؑعث بن سکتی ہے اب وقت آگیا ہے کہ اقوام عالم مسئلہ کشمیر ہنگام بنیادوں پر حل کروائے تاکہ پاک بھارت متوقعہ جنگ کی جنگ کی صورت میں ہونے والی تباہ کاریوں کے اثرات سے اقوام عالم کو بھی بچایا جاسکے

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں