پاکستانی مریض ایک پرکشش تجربہ گاہ

0
100
Art

ا

پاکستانی مریض ایک پرکشش تجربہ گا

ہمارے ملک کے  بعض حصوں  میں بیمار ہونے والا شخص ایک انتہاءی  پرکشش ہستی کا روپ دھار لیتا ہے ۔ جس کا باقاعدہ طور طواف کیا جاتا ہے ۔ اور یہ وہ وقت ہوتا جب حکماء اور  ڈاکٹرز کے علاوہ باقی ہر خاص و عام  کو  مریض کی طرف عقاب کی طرح اپنے شکار کی طرف لپکتے دیکھا جاسکتا ہے  اور ہر کوئی اپنے پورے اعتماد کے ساتھ  پرسنل  کمیاءی نباتاتی حیواناتی اور جذباتی نسخہ جات کی آزمائش کے لیے پہلی فرصت میں پہنچتا ہے    اور اگر کوئی شخص معجزانہ طور پر لیٹ جاءے  تو اس صورت میں  پہلے سے  آئے ہوئے تمام  نسخہ جات کومکمل طور پر اپنی ذاتی دلیلوں سے رد کرتا ہے ۔  کچھ ہی وقت میں نسخہ جات کا ایک وسیع عریض میدان سج جاتا ہے ۔ایسے موقع پر بیرونی دنیا سے بھی رابطہ بحال ہو جاتا ہے۔صدیوں کے بچھڑے بھی اپنے پاس موجود کئ  سالوں کے نسخہ جات  نچھاور کرنے کے لیے شدید بیتاب ہوتے ہیں  بذریعہ واٹس ایپ ،فیس بک, سکاءیپ اور دیگر ذرائع سے آڈیو ویڈیو نسخے نازل ہونا شروع ہو جاتے ہیں
اب اگلا مرحلہ انتہائی پیچیدہ اور اہم ترین ہوتا ہے ۔سنسنی خیز  لمحہ معتبر ترین نسخہ جات کو چننے کا ہوتا ہے اس کے لیے  باقاعدہ لائحہ عمل طے کیا جاتا ہے اور جن نسخہ جات کی شہادتیں ذیادہ موصول ہوئی ہوتی ہیں ان پر حتمی کاروائی کرنے کا وقت آن پہنچتا ہے  ۔ پہلے راؤنڈ میں مریض کو  ایک ایک کر  کامیاب نسخہ جات کی بھینٹ چڑھایا جاتا ہے ۔  پہلے راؤنڈ میں معمولی سی بہتری کی صورت بھی ڈائریکٹ  فاءنل کھیلایا جاتا ہے  فاءنل بہت سنسنی خیز ہوتا ہے کیونکہ اس میں آر یا پار کی کیفیت مریض پر مکمل طور پر طاری ہوتی ہے
پہلے راؤنڈ میں فیل ہونے کی صورت میں  ایک نیا  باب جنم لیتا ہے۔اور ایسے نسخہ جات جن کی شہادتیں کمزور بھی ہوتی ہیں انکو بھی آزمانے کا وقت آجاتا ہے  ۔  ایسی  صورت میں ہر کوئی مریض کے ٹھیک ہو جانے کی صورت میں  یہ دعویٰ کرنے کا حق  محفوظ رکھتا ہے  کہ مریض میری ہی وجہ سے صحتیاب ہواہے  اسطرح ہر شخص کو اس علاقے میں ایک مقام حاصل ہو جاتا ہے
سب سے منفرد اور نمایاں صورتحال اس وقت دیکھنے میں آتی ہے جب فائنل ہارنے کے بعد مریض کی پیشی سب سےبڑی اور آخری عدالت میں  پڑ جاتی ہے۔ اس وقت تمام نسخہ جات کے مالکانہ حقوق  کے دعویدار توبہ استغفار کا ورد کرتے نظر آتے ہیں  ۔ کوئی بھی یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا کہ مریض کی مالک حقیقی سے ملاقات کروانے میں اس کا تھوڑا سا بھی ہاتھ ہے ۔سب یک زبان ہو کے  کہتے سناءی دیتے ہیں کہ اللہ کی اسی میں مرضی تھی ۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں